بھٹکل :26؍فروری (ایس او نیوز) 2006میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت والی مرکزی حکومت کی طرف سےجاری کردہ فاریسٹ حقوق قانون کے برعکس سپریم کورٹ کا فیصلہ صادر ہواہے۔مرکزی اور ریاستی حکومتیں فاریسٹ مکینوں کی حفاظت کے لئے فوری طورپر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی پیش کرنے بھٹکل فاریسٹ اتی کرم دار ہوراٹ سمیتی کے صدر راماموگیر نے مطالبہ کیا ہے۔
وہ یہاں منگل کو پرائیویٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتےہوئےکہاکہ سپریم کورٹ میں متعلقہ فاریسٹ قانون کے خلاف ایک غیر سرکاری این جی او کی طرف سے داخل کردہ عرضی انسانیت سے عاری ہے، جس کو سپریم کورٹ کو ذہن نشین کرانے میں حکومتیں ناکام ہوئی ہیں۔ بھٹکل میں 10ہزار فاریسٹ اتی کرم دار سکرم کے لئے عرضیاں داخل کی ہیں۔ ان میں سے ضلع انتظامیہ 6000عرضیوں کو رد کیا ہے، جب کہ اترکنڑا ضلع میں 80فی صد فاریسٹ زمین ہونے سے عوام کو رہائش کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ان حالات میں ہمارے لئے جدوجہد کا راستہ ہی باقی رہ جاتاہے۔
اپنے مطالبات کے لئے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے کمٹہ میں 2مارچ کو ہونے والے جیل بھرو احتجاج میں بھٹکل سے کثیر تعداد میں عوام کو شرکت کرنےکی اپیل کی۔ اتی کرم داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اتی کرم دار ہوراٹ سمیتی کے صدر رویندر ناتھ نائک نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی سی سی صدر راہل گاندھی نے ریاستی نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کو خط لکھ کر کہا ہے کہ فاریسٹ اتی کرم داروں کی حفاظت کے لئے عرضی داخل کریں ۔ اس فیصلے کےل ئے ہم اتی کرم دار سمیتی کی طرف سے کانگریس صدر کا شکریہ اداکرتے ہیں۔ ایم ڈی نائک، گنپتی نائک جالی، صلاح الدین ، رضوان، سلیمان، دیوراج گونڈ، مادیو نائک، سبرائے نائک وغیرہ موجود تھے۔